The coward dies many times, the winner only once!
How often do you die? Or should I ask, are you alive? Because the one who is fully alive will die completely. Most of us are never fully alive. Some part of our heart is under the influence of some fear. That part is dead. We are never completely happy. Happiness, on the other hand, is not completely satisfied. Our satisfaction is either in things or in the success of our plans. Every small or big shock makes us "dead". Many people's mood stays off all day just because they don't get the food they want or some minor plan fails and so on.
While life is something beyond that. We must lighten our souls with the burden of many things, situations, and anxieties. Imagine for a second you were transposed into the karmic driven world of Earl. Does a young person get a brain tumor, or a 19-year-old girl's eyesight is compromised, and we are upset that such and such a plan did not succeed, or did not happen on time, or did not achieve the desired profit in business? Better a poor horse than no horse at all.
Like a broken leg, loss of sight, or the separation of a loved one? It is true that every incident and accident has its own cause and pain, but we also collect some pains. Some of us even start to get more windy. I acknowledge the fact that we are all dying every day with so many things. Death strikes us many times. With each passing day
We are becoming less courageous. That our hearts, souls, all of us, have tasted death many times. That the coward dies many times and the winner is just one thing.
Dare ... be the winner ...
بزدل کئی بار مرتا ہے، فاتح صرف ایک بار!
آپ کتنی بار مرتے ہیں؟یا مجھے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آپ ٹھیک سے زندہ بھی ہیں؟ کیونکہ پوری طرح سے وہی مرے گا جو پوری طرح سے زندہ ہو گا۔ ہم میں سے اکثریت پوری طرح سے کبھی زندہ نہیں ہوتی۔ ہمارے دل کا کوئی نہ کوئی حصہ کسی نہ کسی خوف کے زیر اثر رہتا ہے۔وہ حصہ مردہ ہوتا ہے۔ ہم کبھی پوری طرح سے خوش نہیں ہوتا۔ خوشی ایک طرف، پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ ہمارا اطمینان یا چیزوں میں ہے یا پھر ہمارے پلانز کی کامیابیوں میں۔ ہر چھوٹا بڑا جھٹکا ہمیں ”مردہ“کر دیتا ہے۔کئی لوگوں کا موڈ صرف اس لیے سارا دن آف رہتا ہے کہ انہیں ان کی پسند کا کھانا نہیں ملا یا ان کا کوئی معمولی پلان فیل ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔
جبکہ زندگی اس سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ ہمیں اپنی روح کو بہت سی چیزوں، کیفیتوں، اور بے چینیوں کے بوجھ سے ہلکا کرنا چاہیے۔ سوچیں کہ لوگوں کے عزیز ان سے جدا ہو رہے ہیں، کسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی، کسی کے ساتھ ایسا حادثہ ہو گیا جو اسے پہلی جیسی زندگی نہیں دے سکتا،تو پھر ہم معمولی مسائل پر ہلکان کیوں ہوں؟خودسوچیں کہ ایک پچیس سالہ نوجوان کو برین ٹیومر ہو جاتا ہے، یا ایک انیس سالہ لڑکی کی بینائی خطرے میں پڑ جاتی ہے، اور ہم اپ سیٹ ہو رہے ہوں کہ فلاں پلان کامیاب نہیں ہوا، یا وقت پر نہیں ہوا، یا بزنس میں مطلوبہ پرافٹ نہیں ہوا؟کسی چیز کا نہ ہونا بہتر ہے یا پھر کسی ایسی چیز کا ہو جانا جو پوری زندگی بدل دے۔ جیسے ٹانگ ٹوٹ جانا، بینائی کا چلے جانا، یا کسی عزیز کا جدا ہو جانا؟یہ ٹھیک ہے کہ ہر واقعے اور حادثے کی اپنی وجہ اور تکلیف ہوتی ہے لیکن کچھ تکلیفیں ہم بھی اکھٹی کر لیتے ہیں۔ کچھ ہم بھی زیادہ ہوا دینے لگتے ہیں۔میں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہوں کہ ہم سب کئی چیزوں کے ساتھ ہر روز مر رہے ہیں۔ ہم پر کئی بار موت طاری ہوتی ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ
ہم کم ہمت ہوتے جا رہے ہیں۔ کہ ہمارا دل ، روح ، سارے کے سارے ہم، کئی بار موت کا مزا چکھ چکے ہوتے ہیں۔ کہ بزدل کئی بار مرتا ہے اور فاتح صرف ایک بات۔
ہمت کریں۔۔۔۔فاتح بنیں۔۔۔۔
Comments