ہر ماں کے پچھتاوے
- Get link
- X
- Other Apps
دل کی باتیں ❤
میرے اوپر تلے بچے ہیں۔ میں انہیں الگ الگ سے وقت ہی نہیں دے پاتی۔
میرے بچوں میں وقفہ ہے۔ لگتا ہے ساری عمر بچے پالنے میں ہی گزر گئی۔
مجھے چایئے تھا کہ بچوں کے بعد جاب ترک نہ کرتی ۔ آج چھوٹی چھوٹی چیز کے لئے میرے بچوں کو دوسروں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
میں نے بچوں کے بعد بھی جاب کی ۔ میرا کریئر میرے لئے امپارٹنٹ ہے، اور کچھ مجبوری بھی تھی۔ لیکن بس یہی دکھ رہتا ہے کہ بچوں کا بچپن دوسروں کے ہاتھوں میں گزر گیا۔
میں نے بچے کو بریسٹ ملک پر ہی رکھا۔ اب اتنا افسوس ہوتا ہے۔ وہ کسی اور سے دودھ لیتا ہی نہیں، نہ فیڈر کی طرف آتا ہے۔ مجھ سے ہی اٹیچ ہو گیا ہے۔ فارمولا ملک پینے والوں کی نسبت کمزور بھی لگتا ہے ۔
میں نے بچے کو شروع سے ہی فارمولا ملک پر ڈال دیا۔ اب بہت افسوس ہوتا ہے کہ بریسٹ ملک کی غذائیت بچے کے لئے اتنی ضروری تھی اور میں نے دیا نہیں ۔
میں نے بچے کو ہر چیز گھر میں خالص بنا بنا کر دی۔ مجھے لگتا ہے میں نے اسکو رنگا رنگ کھانے کی چیزوں سے محروم رکھ کر اسکا بچپن خراب کر دیا ۔
میں نے بچے کو بازار کے چپس اور بسکٹوں کی عادت ڈال دی۔ مجھے چاہیے تھا کہ گھر کی چیزیں دیتی۔ اب وہ گھر کی چیزیں پسند ہی نہیں کرتا۔
میں نے اپنے بچے کو اصول و ضوابط کیساتھ بڑا کیا۔ روک رکاوٹ بھی کرنی پڑی۔ مجھے لگتا ہے کہ باقی بچے مزے کرتے ہیں اور میرا بچہ ویل مینرڈ بننے میں لگا رہتا ہے۔ اسکا کانفیڈینس بھی باقی بچوں کی نسبت کم لگتا ہے -
میں نے اپنے بچوں کو کوئی روک رکاوٹ نہ کی کہ بچے کا بچپن خراب نہ ہو۔ اب مجھے لگتا ہے کہ وہ قابو میں ہی نہیں۔ باقی بچے اتنے ویل بی۔ہیوڈ ہوتے ہیں ۔
میں اپنے بچے کا سکرین ٹائم محدود رکھتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ باقی بچوں کے سامنے خود کو محروم اور مظلوم سمجھتا ہو گا۔
میرے بچے پڑھائی سے فارغ ہو کے سارا ویڈیو گیم میں لگ جاتے ہیں۔ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ میں انہیں سکرین کے علاوہ کچھ کیوں نہیں کروا پاتی ۔
میں بچوں کو روز نت نئی چیزیں نہیں دلوا سکتی۔ میرے بچے خود کو محروم نہ سمجھنے لگیں ۔
میں بچوں کو روز نت نئی چیزیں دلواتی رہتی ہوں۔ کہیں وہ بڑے ہو کر مٹیریلسٹیک نہ بن جائیں۔
حفظ میں ڈال دیا تو ہائے بیچارہ باقیوں سے پیچھے رہ جائے گا ۔
عصری تعلیم میں ڈال دیا تو ہائے کہیں دین سے دور نہ ہو جائے ۔
اسکی پسند کے سبجیکٹس چن لئے تو جاب اچھی نہیں مل رہی۔ مجھے چاہیے تھا اسکو اس وقت فورس کرتی کہ دوسرے سبجیکٹ لیتا
میری پسند کے سبجیکٹس لے لئے، بچے کی دلچسپی نہیں تھی، اسی لئے اچھی جاب نہیں ملی ۔
بچے کی شادی اس کی اپنی پسند سے کرنے دیتی تو خوش رہتا ۔
بچے کی شادی میں اپنی پسند کی لڑکی سے کر دیتی تو خوش رہتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
mom guilt
میں ہر اس ماں سے مخاطب ہوں جو کسی نہ کسی وجہ سے مام گِلٹ کا شکار ہے۔ مام گِلٹ ہر رنگ اور ہر شکل میں ملتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پھر ساری عمر رکتا نہیں۔ صبح آنکھ نہ کھلی تو گلٹی محسوس کر رہے ہیں کہ اف کیسی ماں ہوں میں۔ بچے نے غلطی سے گرم ہیٹر پر ہاتھ لگا لیا، ماں دکھی کیساتھ شرمندہ سی بھی ہے۔ بچے کا کسی سے جھگڑا ہو گیا، ہم اپنی تربیت کو کوسنے لگے۔ گھر رہتے ہیں تو افسوس، جاب کرتے ہیں تو پریشان۔ ڈانٹ دیا تو سارا دن خود کو کوس رہے ہیں۔ تو کیسے پائیں مام گِلٹ سے چھٹکارا ؟
سب سے پہلی بات تو یہ کہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی لیکن اپنے لیے ٹائم نکالیں۔ شروع میں پریشانی ہو گی، وہی منحوس گِلٹ لیکن پھر بھی ٹائم نکالئے۔ آپکو کڑھائی پسند ہے، بیکنگ، مطالعہ، یا ایکسرسائز کرنا، بہن سے فون پر بات کرنا، میک اپ کرنا، پودے لگانا۔۔۔۔ جو بھی چیز آپکو خوشی دیتی ہے اسکے لیے آدھ پون گھنٹہ نکالیں۔ بچوں کو بتا دیجیے کہ ابھی ماما شاور لینے جا رہی ہیں، آپ باہر سے آوازیں نہیں لگائیں گے۔ ماما ابھی بک پڑھ رہی ہیں، لکھ رہی ہیں، آپ اپنی بک پڑھیں یا لیگو بنائیں یا جو جی چاہے کریں۔ آپ ماں ہیں، لیکن آپ آپ بھی ہیں ۔ خود سے محبت کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ پونا گھنٹہ جو آپ بچے سے الگ رہ کر خود کو ریفریش کر لیتی ہیں تو بچے کو تازہ دم ہو کر ایک چڑچڑی ماں سے بچا لیتی ہیں ۔
تازہ ہوا میں گہری سانسیں لیں۔ چاہے پانچ منٹ روز کر سکیں، لیکن کریں ۔ پارک ہو، سبزہ ہو، پانی کی آواز ہو، بہت اعلی۔ اگر نہیں بھی ہو تو چھت پر سورج کی پہلی کرنیں جذب کریں ۔چڑیوں کی آوازیں سنیں ۔ سانس کے آنے جانے کے عمل پر غور کیجیے۔ اگر وہ زیادہ صبح ہے تو مغرب کے وقت یہ اہتمام کر لیں۔ یا پھر رات۔ چاند دیکھیں۔
چاندنی اپنے اندر تک محسوس کریں ۔
رو لیں ۔
دکھ کو اندر رکھ کر پالنے سے بہتر ہے کہ اسے بہا دیں۔ دھوپ رہے یا بارش ہو، بس حبس اور گھٹن کا موسم نہ ہو۔ دل کے موسم کا خیال رکھیں ۔
جب بھی منفی خیالات آنے لگیں، انہیں own کریں۔ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی۔ ہاں میں نے وہ فیصلہ کیا تھا۔ لیکن بچوں ہی کی وجہ سے وہ فیصلہ کیا۔ میں انسان ہوں۔ مجھ میں بشری کمزوریاں ہیں۔ مجھ سے غلطی بیشک ہوئی، لیکن میں ایک اچھی ماں بننے کی کوشش کر رہی ہوں، اور یہی چیز ضروری ہے ۔
یاد رکھیں کہ پرفیکشن بس اللہ ہی کو سجتی ہے۔ پرفیکشن کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں ۔
🤲🏻 دعا دعا دعا 🤲🏻
یعنی
❤سکون سکون سکون !
بالکل جیسے امی ابو، شوہر، اولاد، اپنی صحت ایمان کے لئے دعا کی جاتی ہے، اپنے دلی اور ذہنی سکون کے لئے دعا کرتے رہیں۔ آپکا سکون ضروری ہے۔ آپ ضروری ہیں۔
میں ہر اس ماں سے مخاطب ہوں جو کسی نہ کسی وجہ سے مام گِلٹ کا شکار ہے۔ مجھے آپ سے کہنا ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ کوشش جاری رکھیے کہ ہمارے ذمہ کوشش ہی رکھی گیئ ہے۔ اور کوشش کیساتھ دعا کی گرہ لگا دیں۔ بس! جو بیت گئی سو بات گئی۔ پچھلے فیصلوں پر اب اس لمحے کے بعد سے پچھتانا نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے وقت کی مناسبت سے جو بھی فیصلے کیے، اس میں بچوں کی خیر کو مقدم جانا۔ اس بات کا یقین خود کو بھی دلوائیں۔ خود سے بھی محبت کریں
- Get link
- X
- Other Apps

Comments